ابنا: انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو شدت پسندوں سے لاتعلقی کا اظہار کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کے لئے سیاسی عمل اور پڑوسی ممالک کی ضرورت ہے۔ ہلیری کلنٹن نے افغانستان اور پاکستان کے دوروں پر روانہ ہونے سے قبل واشنگٹن میں ایک ٹی وی کو دئے گئےانٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ اور کٹھن ہیں۔ انہوں نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سرغنے کےخلاف کاروائي کے بارے میں کہا کہ یہ کاروائي یکطرفہ نہیں تھی اور امریکہ ملکی سلامتی کے لئے ایسی کاروائياں کرتا رہے گا. ...........
/169